آج کے جدید دور میں سمارٹ واچ اور فٹنس ٹریکرز ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ قدم گننے سے لے کر دل کی دھڑکن اور نیند کا معیار ناپنے تک، یہ گیجٹس ہر وقت ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ نیند کا بہترین سکور حاصل کرنے کی مسلسل دھن آپ کو شدید بے خوابی اور ذہنی تناؤ کا شکار بنا سکتی ہے؟ طبی ماہرین اس جدید نفسیاتی مسئلے کو 'آرتھوسومنیا' (Orthosomnia) کا نام دیتے ہیں۔ جب آپ ہر رات اپنی نیند کے ڈیٹا کو بہتر بنانے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں، تو یہی فکر آپ کی قدرتی نیند کے عمل کو متاثر کرنے لگتی ہے۔
آرتھوسومنیا دو الفاظ کا مجموعہ ہے، جس میں 'آرتھو' کا مطلب درست اور 'سومنیا' کا مطلب نیند ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد اپنی سمارٹ واچ کے بتائے ہوئے 'سلیپ سکور' (Sleep Score) سے اس حد تک جذباتی طور پر وابستہ ہو جاتے ہیں کہ اگر صبح واچ خراب سکور دکھائے تو وہ دن بھر تھکن اور ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں، چاہے وہ خود کو کتنا ہی تروتازہ کیوں نہ محسوس کر رہے ہوں۔
جدید گیجٹس کی فراہم کردہ معلومات پر اندھا اعتماد انسان کو اپنی جسمانی کیفیات کے بجائے ڈیجیٹل اعداد و شمار کا غلام بنا دیتا ہے۔
زیادہ تر سمارٹ واچز اور فٹنس بینڈز انسان کی حرکات و سکنات اور دل کی دھڑکن کی بنیاد پر نیند کا اندازہ لگاتے ہیں۔ لیکن طبی سائنس کے مطابق یہ ٹریکرز ہمیشہ 100 فیصد درست نہیں ہوتے۔ اگر آپ بستر پر بالکل ساکت لیٹے ہیں اور ذہن میں خیالات کا طوفان چل رہا ہے، تب بھی آپ کا سمارٹ ڈیوائس اسے گہری نیند کا نام دے سکتا ہے۔ اس غلط ڈیٹا کی وجہ سے صارف مزید الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
اگر آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی سمارٹ واچ آپ کے لیے سکون کے بجائے تشویش کا باعث بن رہی ہے، تو کچھ عرصے کے لیے رات کو واچ پہننا بند کر دیں۔ اس کے علاوہ رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے تمام ڈیجیٹل ڈیوائسز سے دوری اختیار کریں۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی الگورتھم آپ کے اپنے جسم کے احساس سے زیادہ درست نہیں ہو سکتا۔
کیا آپ بھی سمارٹ واچ کا سلیپ سکور دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے اور تجربات ہمارے ساتھ ضرور شیئر کریں۔









